حدیث نمبر: 8921
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِإِبِلٍ لَهُ ، فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ ، فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ : مَا أَقْدَمَكَ ؟ قَالَ : قَدِمْتُ بِإِبِلٍ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَنَقَدَكَ ؟ قَالَ : لَا وَلَكِنْ بِعْتُهَا مِنْهُ بِتَأْخِيرٍ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِي [ مَالِي ؟ وَاْنظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ حَتَّى تُعْلِمَنِي ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِينِي ؟ ] ، قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ " . فَأَعْلَمَ عَلِيًّا . فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ فَسَلْهُ إِنْ حَدَثَ بِأَبِي بَكْرٍ [ حَدَثٌ ] فَمَنْ يَقْضِي ؟ فَسَأَلَهُ فَقَالَ : " عُمَرُ " فَجَاءَ فَأَعْلَمَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ فَسَلْهُ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَمَنْ يَقْضِي ؟ فَجَاءَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَيْحَكَ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دیہاتی علاقے کا ایک فرد اپنا اونٹ لے کے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کا اونٹ خرید لیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس شخص سے ملاقات ہوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اس نے کہا: میں ایک اونٹ لے کے آیا تھا جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید لیا ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں نقد ادائیگی کر دی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں میں نے انہیں اس شرط پر فروخت کیا ہے کہ ادائیگی بعد میں ہو گی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرو : یا رسول اللہ ! اگر آپ کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آ جاتا ہے ، تو مجھے میرے مال کی ادائیگی کون کرے گا ؟ پھر تم اس بات کا جائزہ لینا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا جواب دیتے ہیں اور مجھے اس کے بارے میں بتانا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ اگر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے ، تو مجھے کون ادائیگی کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ! اس شخص نے اس بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم واپس جاؤ اور ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے ، تو پھر کون ادائیگی کرے گا : اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عمرو ، وہ شخص آیا اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم واپس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرو کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے گا ، تو پھر کون ادائیگی کرے گا ؟ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو جب عمر مر جائے گا ، تو اگر تم سے ہو سکے ، تو اس وقت تم بھی مر جانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (180/17)»