حدیث نمبر: 8916
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ نُسَلِّمْ عَلَيْهِمْ " . فَأَتَاهُمْ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَرَحَّبُوا بِهِ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَهْلَ قُبَاءَ ائْتُونِي بِأَحْجَارٍ مِنْ هَذِهِ الْحَرَّةِ " فَجُمِعَتْ عِنْدَهُ أَحْجَارٌ كَثِيرَةٌ ، وَمَعَهُ عَنَزَةٌ لَهُ فَخَطَّ قِبْلَتَهُمْ ، فَأَخَذَ حَجَرًا فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى حَجَرِي " ثُمَّ قَالَ : " يَا عُمَرُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ " ثُمَّ قَالَ : " يَا عُثْمَانُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ " ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ بِأَخَرَةٍ فَقَالَ : " وَضَعَ رَجُلٌ حَجَرَهُ حَيْثُ أَحَبَّ عَلَى ذَلِكَ الْخَطِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم ہمارے ساتھ اہل قباء کی طرف چلو تاکہ ہم انہیں سلام کر لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ کو خوش آمدید کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اہل قباء میرے پاس پتھریلی زمین سے پتھر لے کے آؤ جب وہاں بہت سے پتھر اکٹھے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نیزہ تھا آپ نے ان لوگوں کے قبلہ کی طرف لکیر لگائی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پتھر لیا اور آپ نے اسے رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا : اے ابوبکر تم ایک پتھر لو اور میرے پتھر کے ساتھ رکھ دو پھر آپ نے فرمایا : اے عمر تم ایک پتھر لو اور ابوبکر کے پتھر کے پہلو میں اسے رکھ دو پھر آپ نے فرمایا : اے عثمان تم ایک پتھر لو اور اسے عمر کے پتھر کے پہلو میں رکھ دو پھر آپ پیچھے موجود لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور ارشاد فرمایا : ہر شخص جہاں چاہے اس لکیر کے مطابق پتھر رکھ دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2418)»