حدیث نمبر: 8912
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ إِلَى بُسْتَانٍ فَجَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ : " يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعْلِمُهُ ؟ قَالَ : " أَعْلِمْهُ " فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَأَبْشِرْ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ ثُمَّ جَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ : " يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعْلِمُهُ ؟ قَالَ : " أَعْلِمْهُ " فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَأَبْشِرْ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ . ¤ قَالَ : ثُمَّ جَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ : " يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ وَأَنَّهُ مَقْتُولٌ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ وَإِنَّكَ مَقْتُولٌ . ¤ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَهْ ؟ وَاللَّهِ مَا تَعَنَّيْتُ وَلَا تَمَنَّيْتُ وَلَا مَسَسْتُ فَرْجِي مُنْذُ بَايَعْتُكَ . قَالَ : " هُوَ ذَاكَ يَا عُثْمَانُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " سَيَلِي أَمْرَ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَّهُ سَيَلْقَى مِنَ الرَّعِيَّةِ شِدَّةً " فَأَمَرَهُ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ يَكُفَّ . ¤ وَفِيهِ صَقْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عُتْبَةُ أَبُو عَمْرٍو ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الْبَزَّارِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي عُثْمَانَ : فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ دَخَلَ . وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ ایک باغ میں تشریف لے آئے ایک صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس اٹھ کر دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری دو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتا دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے بتا دو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی خوشخبری ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس اٹھ کر اس کے لئے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور اسے ابوبکر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتا دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے بتا دو میں نکلا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے انہیں کہا: آپ کو جنت کی خوشخبری ہو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس اٹھ کر اس کے لئے دروازہ کھولو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور عمر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو اور یہ بتا دو کہ وہ مقتول ہو گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں باہر نکلا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو اور یہ بات جان لیں کہ آپ شہید ہوں گے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ اللہ کی قسم ! نہ ، تو میں نے کبھی کوئی سرکشی کی ہے ، اور نہ ہی میں نے کبھی اس کی آرزو کی ہے ، جب سے میں نے آپ کی بیعت کی ہے میں نے ، تو اپنی شرمگاہ کو بھی نہیں چھوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان ایسا ہی ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عنقریب ابوبکر اور عمر کے بعد میری امت کے معاملے کا نگران وہ بنے گا ، اور عنقریب وہ رعایا کی طرف سے شدت کا سامنا کرے گا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ خود کو روک کے رکھیں “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی صقر بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ کذاب ہے امام بزار کی سند میں ایک راوی عتبہ ابوعمرو ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال بزار کے رجال ہیں ، البتہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور اندر آ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی کی روایت حسب سابق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1573, 1572) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3958)»