حدیث نمبر: 8907
عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجُمَلِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةٍ ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ - عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجُرَّانِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جنگ جمل کے موقع پر انہوں نے یہ ارشاد فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے حکومت کے بارے میں کوئی ایسا عہد نہیں لیا تھا جسے ہم اختیار کریں بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہماری اپنی رائے تھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، تو انہوں نے ( احکام کو ) قائم کیا اور وہ سیدھے رہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا ، انہوں نے ( احکام کو ) قائم کیا اور سیدھے رہے یہاں تک کہ دین مضبوط ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (921)»