مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَاثِيلِ وَالصُّوَرِ . باب: تماثیل اور تصویروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَنِي جِبْرِيلُ فَتُسَلِّمِينَ عَلَيْهِ ، وَيَدْعُوَ لَكِ بِالْخَيْرِ " فَجَاءَ جِبْرِيلُ ، فَقَامَ بِالْبَابِ ، ثُمَّ رَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ جِبْرِيلَ رَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ ؟ " فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزْلَةً أُخْرَى فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ جَلَسَتْ عَائِشَةُ لِتُسَلِّمَ عَلَيْكَ ، وَتَدْعُوَ لَهَا بِالْخَيْرِ فَرَجَعَتْ عَنْ بَابِنَا وَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْنَا ؟ " . فَقَالَ جِبْرِيلُ : إِنِّي جِئْتُ لِأَدْخُلَ عَلَيْكُمْ فَوَجَدْتُ تِلْكَ الدُّوَيْبَّةَ أَوِ التِّمْثَالَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ ، وَفِيهِ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھی رہو ! جبرائیل میرے پاس آئے گا تم اسے سلام کرنا وہ تمہارے لئے دعائے خیر کرے گا ۔ سیدنا جبرائیل آئے ، اور دروازے پر کھڑے ہو گئے ، اور اندر آئے بغیر واپس چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبرائیل کا کیا معاملہ ہے وہ اندر آئے بغیر واپس چلا گیا پھر دوسری مرتبہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل عائشہ تمہیں سلام کرنے کے لئے بیٹھی تھی تاکہ تم اس کے لئے دعائے خیر کرو اور تم ہمارے دروازے سے واپس چلے گئے ، اور ہمارے ہاں اندر نہیں آئے ، تو سیدنا جبرائیل نے عرض کی : میں آپ کے پاس اندر آنے کے لئے ہی آیا تھا ، لیکن میں نے اس چھوٹے جانور ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : تمثیل کو پایا ( اس لئے میں اندر نہیں آیا ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ بن خالد بن سعید بن ابومریم ہے ابن ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے اس میں مستور ہونا پایا جاتا ہے ( یا اس روایت میں ایک راوی مستور ہے ) اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔