مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَاثِيلِ وَالصُّوَرِ . باب: تماثیل اور تصویروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ - قَالَ : وَيُكَنِّيهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَبَا مُوَرَّعٍ قَالَ : وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّدٍ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَحْمَدَ الْأَوَّلِ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ : " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا " بَدَلُ : " لَطَّخَهَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيُّ ، وَيُقَالُ : أَبُو مُوَرَّعٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے
یہ روایت منقول ہے اہل بصرہ ان کی کنیت ابومورع بیان کرتے ہیں ، لیکن اور اہل کوفہ ان کی کنیت ابومحمد بیان کرتے ہیں : وہ صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے امام أحمد کے نقل کردہ پہلی والی روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اور اس میں یہ بات بیان نہیں کی کہ
یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور اس میں ایک لفظ ” طلخھا“ کی جگہ لفظ ” لطخھا نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحد ہذلی ہے ایک قول کے مطابق اس کی کنیت ابومورع ہے میں نے کسی کو اس کی ، توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ایک جماعت نے اس سے روایات نقل کی ہیں کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔