حدیث نمبر: 8841
وَعَنْ حَسَّانَ أَنَّ أَبَا هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ كَانَ لَهُ شَارِبٌ يَعْقِدُهُ خَلْفَ قَفَاهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا بَالُ شَارِبِكَ ، وَقَدْ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَخْذِ الشَّارِبِ مَا قَدْ جَاءَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَخَذْتُ شَارِبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَتَى أَخَذْتَ شَارِبَكَ ؟ " قُلْتُ : السَّاعَةَ . قَالَ : " فَلَا تَأْخُذْهُ حَتَّى تَلْقَانِي " فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أَلْقَاهُ ، فَلَنْ آخُذَهُ حَتَّى أَلْقَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْأُرْدُنِّيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

حسان بیان کرتے ہیں : ابوہاشم بن عتبہ کی مونچھیں تھیں جنہیں وہ گردن تک لے جا سکتے تھے میں نے ان سے کہا: آپ کی مونچھوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حکم منقول ہے کہ مونچھیں چھوٹی رکھنی چاہئیں ، تو انہوں نے جواب دیا : میں نے مونچھیں چھوٹی رکھی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک مونچھوں کی جگہ پر پھیرا اور فرمایا تم نے مونچھیں کب تراشی تھیں ؟ میں نے عرض کی : ابھی تھوڑی دیر پہلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم انہیں اس وقت تک نہ تراشنا جب تک تمہاری مجھ سے ملاقات نہیں ہوتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات سے پہلے ہی آپ کا وصال ہو گیا تو میں انہیں نہیں تراشوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن سلمہ اردنی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8841
درجۂ حدیث محدثین: موضوع