حدیث نمبر: 8832
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ مَجْزَأَةَ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ كَانَتْ لَهُ قَصَّةٌ فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهِ ، إِذَا قَعَدَ أَرْسَلَهَا فَتَبْلُغُ الْأَرْضَ ، فَقَالُوا لَهُ : أَلَا تَحْلِقُهَا ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ عَلَيْهَا بِيَدِهِ . فَلَمْ أَكُنْ لِأَحْلِقَهَا حَتَّى أَمُوتَ [ فَلَمْ يَحْلِقْهَا حَتَّى مَاتَ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ ثَابِتٍ الْمَكِّيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُحْمَدُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ صفیہ بنت مجزاۃ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے سر کے آگے کی طرف اتنے لمبے بال تھے جب وہ بیٹھتے تھے ، اور انہیں کھولتے تھے ، تو وہ زمین تک پہنچ جاتے تھے لوگ انہیں کہتے آپ انہیں کٹواتے کیوں نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان پر پھیرا تھا تو میں مرتے دم تک انہیں نہیں مونڈواؤں گا ، تو انہوں نے مرتے دم تک انہیں نہیں مونڈوایا ۔ پہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ثابت مکی ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کی تعریف نہیں کی گئی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (6746)»