مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّيْبِ وَالْخِضَابِ . باب: سفید بالوں اور خضاب لگانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ : رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ؟ قَالَ : نَعَمْ رَأَيْتُهُ جَالِسًا فِي حَوْضِ زَمْزَمَ قُلْتُ : هَلْ رَأَيْتَهُ صَبَغَ ؟ قَالَ : لَا إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ سَوْدَاءَ ، إِلَّا هَذَا الْمَوْضِعَ - يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ - وَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ بَيَاضٌ ، وَذُكِرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَابَ ذَلِكَ الْمَوْضِعُ مِنْهُ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ إِنْ كَانَ الْمَازِنِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں : میں نے عبداللہ بن ابویزید سے دریافت کیا : کیا آپ نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے انہیں زمزم کے کنویں کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تھا سفیان کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے انہیں دیکھا تھا کہ انہوں نے خضاب لگایا ہوا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں میں نے دیکھا تھا کہ ان کے سر کے اور داڑھی کے بال سیاہ ہیں ، البتہ اتنا سا حصہ نہیں تھا یعنی نچلے ہونٹ سے نیچے والا حصہ ، وہاں کچھ سفید بال تھے ۔ یہ بات ذکر کی گئی ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی اس حصے کے سفید بال تھے ، تو ( اس حوالے سے ) سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور عبداللہ بن ابویزید نامی راوی اگر تو مازنی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔