مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ . باب: ریحان اور خوشبو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أُتِيَ أَحَدُكُمْ بِالطَّيِّبِ فَلْيُصِبْ مِنْهُ ، وَإِذَا أُتِيَ بِحَلْوَى فَلْيُصِبْ مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ ، وَفِيهِ فَضَالَةُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ . وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ فِيهِ : " إِذَا وُضِعَ الطِّيبُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ فَلْيَلْمِسْ مِنْهُ " . وَلَيْسَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کے پاس خوشبو لائی جائے ، تو وہ اسے لگا لے اور جب حلوہ ( یا میٹھی چیز ) لائی جائے ، تو وہ اسے استعمال کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن حصین ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مضطرب الحدیث ہے ، اور ایک راوی ابراہیم بن عرعرہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے خوشبو رکھی جائے ، تو وہ اس میں سے لگا لے “ اس کی سند میں ابراہیم بن عرعرہ نامی راوی نہیں ہے ۔