مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَلُوقِ . باب: خلوق ( نامی مخصوص قسم کی خوشبو ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : زَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً إِمَّا مَاشِطَةٌ وَإِمَّا عَطَّارَةٌ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ فَقَالَ : " أَلَا تَغْسِلُ هَذَا الشَّيْءَ ؟ " أَوْ : " أَلَا تَغْسِلُ هَذَا الرِّجْسَ عَنْكَ ؟ " فَأَتَيْتُ بِئْرًا فَاغْتَسَلْتُ فِيهَا حَتَّى اصْفَرَّ الْمَاءُ ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ أَثَرُهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ " . فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ فَلَمْ يَذْهَبْ حَتَّى غَسَلْتُهُ بِالتُّرَابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمَةُ بِنْتُ غَيْلَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی ایک ایسی خاتون کے ساتھ کروا دی جو کنگھی کرنے والی تھی یا عطر بنانے والی تھی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے خلوق لگائی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس چیز کو دھو نہیں دو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا تم اس گندگی کو اپنے سے دھو نہیں دو گے میں کنویں کے پاس آیا میں نے اس میں غسل کیا یہاں تک کہ پانی زرد ہو گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھ پر نشان موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اسے دھوؤ میں گیا اور میں نے اس کو دھویا اور وہ اس وقت تک ختم نہیں ہوا جب تک میں نے اسے مٹی کے ساتھ صاف نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون حکیمہ بنت غیلان ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔