حدیث نمبر: 8749
وَعَنْ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِي حَاجَةٌ فَرَأَى عَلَيَّ خَلُوقًا فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ " فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ " فَذَهَبْتُ فَوَقَعْتُ فِي بِئْرٍ ، وَأَخَذْتُ مُسْتَقَةً وَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " حَاجَتَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو حَبِيبَةَ هَذَا إِنْ كَانَ هُوَ الطَّائِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوحبیبہ ، ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے ایک کام تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر خلوق لگی ہوئی دیکھی ، تو فرمایا تم جاؤ اور اسے دھو لو میں گیا میں نے اسے دھویا پھر میں واپس آیا تو میں نے عرض کی : میں نے اسے دھو لیا ہے ، تو آپ نے فرمایا : تم جاؤ اور اسے دھو لو میں گیا میں ایک کنویں میں اترا میں نے مٹی لی اور اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کیا پھر میں واپس آپ کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا کام ( کیا ہے ؟ ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ابوحبیبہ نامی یہ راوی اگر تو یہ طائی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8749
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف