مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَاتَمِ . باب: انگوٹھی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ لَهُ : لِمَ تَخْتِمُ بِالذَّهَبِ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يُقَسِّمُهَا سَبْيٌ وَخُرْثِيٌّ قَالَ : فَقَسَّمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ ، فَرَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ خَفَضَ ، ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ خَفَضَ ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْ بَرَاءُ " . فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ ثُمَّ قَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي ثُمَّ قَالَ : " خُذِ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ : كَيْفَ تَأْمُرُونِي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ مَوْلَى الْبَرَاءِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَلَكِنْ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْبَرَاءِ ، قُلْتُ : قَدْ وَثَّقَهُ، وَقَالَ : رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ فَصَرَّحَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد بن مالک بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا ، لوگوں نے اُن سے کہا: آپ نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی ہے ، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ کے سامنے مال غنیمت موجود تھا ، آپ نے اس میں قیدیوں اور گھر کے ساز و سامان کو تقسیم کر دیا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم کر دیا یہاں تک کہ یہ انگوٹھی باقی رہ گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا پھر نگاہ کو جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا پھر آپ نے نگاہ کو جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر اسے جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا پھر فرمایا : اے براء میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا یہاں تک کہ آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی لی پھر میری کلائی کو پکڑا اور فرمایا : تم یہ لو اور اسے پہن لو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تمہیں پہننے کے لئے دیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا براء رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ تم مجھے یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں اس چیز کو اتار دوں کہ جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ تم وہ چیز پہن لو جو اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پہنائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ محمد بن مالک نامی راوی سیدنا براء رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اسے ابن حبان اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ابن حبان یہ کہتے ہیں : اس نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے میں یہ کہتا ہوں انہوں نے اس کی توثیق کی گئی ہے اس راوی نے یہ بیان کیا ہے : میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ پر دیکھا ، تو یہ اس بات کی صراحت ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔