حدیث نمبر: 8702
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَمَعَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ لِلْبَيْعَةِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : أَلَا تَحْسِرُ لَنَا عَنْ يَدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ " . ¤ وَفِي النِّسْوَةِ خَالَةٌ لَهُ عَلَيْهَا قُلْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ [ وَخَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ ] فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا هَذِهِ ، هَلْ يَسُرُّكِ أَنْ يُحَلِّيَكِ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ بِسِوَارَيْنِ وَخَوَاتِيمَ ؟ " . فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! قَالَتْ : قُلْتُ : يَا خَالَةُ اطْرَحِي مَا عَلَيْكِ . فَطَرَحَتْهُ . ¤ فَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ : وَاللَّهِ يَا بُنَيَّ لَقَدْ طَرَحْتُهُ فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُ مِنْ مَكَانِهِ وَلَا الْتَفَتَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَيْهِ . ¤ قَالَتْ أَسْمَاءُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ إِحْدَانَا تَصْلَفُ عِنْدَ زَوْجِهَا إِذَا لَمْ تُمَلَّحْ لَهُ وَتُحَلَّى لَهُ ؟ قَالَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ خُرْصَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ وَتَتَّخِذَ لَهُمَا جُمَانَتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ، فَتُدْرِجُهُ بَيْنَ أَنَامِلِهَا مِنْ زَعْفَرَانٍ فَإِذَا هُوَ كَالذَّهَبِ يَبْرُقُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے لئے اہل ایمان کی خواتین کو اکٹھا کیا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ہمارے لئے اپنا دست مبارک آگے نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ہوں میں ان سے ( ہاتھ ملائے بغیر ) بیعت لے لوں گا ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں ) خواتین میں میری خالہ بھی تھیں جنہوں نے سونے کے دو کنگن اور سونے کی انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے خاتون ! کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جہنم کے انگاروں سے بنے ہوئے دو کنگن اور انگوٹھیاں تمہیں زیور کے طور پر پہنائے ، تو اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اللہ سے پناہ مانگتی ہوں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے کہا: اے خالہ آپ نے جو زیور پہنا ہوا ہے اسے اتار دیں ، تو اس خاتون نے اسے اتار دیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی کہ اللہ کی قسم ! اے میرے بیٹے ! میں نے انہیں رکھ دیا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ سے کس نے اس کو حاصل کیا ہم میں سے کسی ایک نے مڑ کر اس کی طرف نہیں دیکھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم خواتین میں سے کوئی ایک جب اپنے شوہر کے سامنے تیار نہیں ہو گی اور زیور نہیں پہنے گی ، تو شوہر کے نزدیک اس کی حیثیت کم ہو جائے گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خواتین میں سے کسی ایک پر کوئی حرج نہیں کہ اگر وہ چاندی کی بنی ہوئی دو انگوٹھیاں لے اور چاندی کے بنے ہوئے دو موتی ( یعنی نگینے ) لے اور پھر اپنے پوروں کے اوپر زعفران لگا کر اس پر مل دے ، تو وہ سونے کی طرح چمکنے لگیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (454/6)»