مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ . باب: ریشم اور سونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَى عَلِيٍّ فَرَاحَ وَهِيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أَرْضَى لَكَ مَا لَا أَرْضَى لِنَفْسِي ، إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَجْعَلَهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سیرائی حلہ تحفے کے طور پر دیا گیا وہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، تو انہوں نے وہ حلہ پہنا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس چیز سے میں اپنی لئے راضی نہیں ہوں اس سے میں تمہارے لئے بھی راضی نہیں ہوں گا یہ میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا تھا کہ تم اسے پہن لو یہ میں نے تمہیں اس لئے دیا تھا تاکہ تم فاطمہ نامی خواتین کو اس کی چادریں بنوا دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔