مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ . باب: ریشم اور سونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَ : أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يُرِيدُ يَضَعُ كُلَّ فَارِسٍ وَيَرْفَعُ كُلَّ رَاعٍ ابْنَ رَاعٍ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ : " لَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک دیہاتی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے جسم پر سیجان کا جبہ تھا جو دیباج سے آراستہ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا یہ ساتھی یہ چاہتا ہے کہ ہر شہسوار کو پست کر دے اور ہر چرواہے کو بلند کر دے جو چرواہے کا بیٹا ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے جبہ کے گریبان کو پکڑا اور فرمایا : میں تم پر اس شخص کا لباس نہ دیکھوں جس کو عقل نہیں ہوتی ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے جو اس سے پہلے سیدنا نوح علیہ السلام کی وصیت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔