حدیث نمبر: 8647
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يُغْنِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ ؟ وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُمْ يَا عُقْبَةُ ، فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ [ وَأَنَا أَسْمَعُ ] فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ہشام بن ابورقیہ بیان کرتے ہیں : میں نے مسلمہ بن مخلد کو سنا وہ منبر پر کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رے تھے اور یہ کہہ رہے تھے اے لوگو ! کیا عصب اور قطان ( نامی مخصوص قسم کے دو کپڑوں ) میں وہ چیز نہیں ہے جو تمہیں ریشم سے بے نیاز کر دے یہ صاحب تمہارے درمیان موجود ہیں یہ تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک چیز بیان کریں گے اے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ آپ کھڑے ہو جائیں ، تو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ( راوی کہتے ہیں : ) میں یہ بات خود سن رہا تھا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے وہ جہنم میں جانے کے لئے تیار رہے “ ۔ ( سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے پھر یہ فرمایا : ) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ اس بات سے محروم رہے گا کہ آخرت میں اسے پہنے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8647
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1751) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (327/17) اخرجه احمد فى المسند (156/4)»