مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ . باب: ریشم اور سونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا يَرْجُو أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ [ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ] . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْلُغُهُمْ هَذَا عَنْ نَبِيِّهِمْ فَيَجْعَلُونَ حَرِيرًا فِي ثِيَابِهِمْ وَ[ فِي ] بُيُوتِهِمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا میں ریشم وہ شخص پہنے گا ، جو یہ امید نہ رکھتا ہو کہ وہ آخرت میں اس کو پہنے گا ، ریشم وہ پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا“ ۔ حسن بصری فرماتے ہیں : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ان کے نبی کے حوالے سے ان تک یہ بات پہنچی ہے ، اور پھر بھی وہ اپنے کپڑوں میں ریشم شامل کر لیتے ہیں اور اپنے گھروں میں بھی استعمال کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔