حدیث نمبر: 863
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ " إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ ، فَتَصَفَّحْتَ وُجُوهَهُمْ ، فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يَهَابُ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فِيهِ الْبُخَارِيُّ : إِنَّهُ أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ . قَالَ فِيهِ الذَّهَبِيُّ : تَابِعِيٌّ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالله بن بسر بیان کرتے ہیں : میں بڑے عرصے سے یہ حدیث سنتا رہا ہوں : کہ جب تم بیس ایسے افراد کے درمیان موجود ہو ، یا وہ افراد اس سے کم ہوں ، یا زیادہ ہوں ، اور تم اُن کے چہروں کا جائزہ لو ، اور اُن کے درمیان کوئی ایسا شخص نہ دیکھو ، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو ، تو تم یہ بات جان لو ! کہ معاملہ کمزور ہو گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، ازہر بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ کہا: ہے : یہ ازہر بن سعید ہے ، اس کے بارے میں امام ذہبی نے یہ کہا: ہے : یہ تابعی ہے اور حسن الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن اور اس کے راوی ثقہ/موثق ہیں۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسئد 196»