حدیث نمبر: 8576
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بِيضٌ لِحَاهُمْ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَمِّرُوا وَصَفِّرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَسَرْوَلُونَ وَلَا يَأْتَزِرُونَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ ؟ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْقَاسِمِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاری بزرگوں کے پاس تشریف لائے جن کی داڑھیاں سفید تھیں آپ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! ( اپنی ڈارھی کے بالوں کو ) سرخ یا زرد رنگ لگاؤ اور اہل کتاب کے برخلاف کرو راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل کتاب ، تو شلوار پہنتے ہیں ، وہ تہبند نہیں پہنتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ شلوار بھی پہن لو اور تہبند بھی پہن لو اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں ، وہ جوتے نہیں پہنتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ موزے بھی پہن لو ، اور جوتے بھی پہن لو اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ اہل کتاب داڑھی چھوٹی کروا لیتے ہیں اور مونچھیں بڑی کروا لیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مونچھیں چھوٹی کرواؤ اور داڑھی بڑھاؤ اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، قاسم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8576
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7924) اخرجه احمد فى المسند (5264)»