حدیث نمبر: 8504
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُوَلِّي وَالِيًا حَتَّى يُعَمِّمَهُ وَيُرْخِيَ لَهَا [ عَذَبَةً ] مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ نَحْوَ الْأُذُنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمِيعُ بْنُ ثَوْبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى أَصْحَابِ الْعَمَائِمِ يَوْمَ الْجُمْعَةَ " فِي الْجُمْعَةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی شخص کو کسی کام کا نگران اس وقت تک مقرر نہیں کرتے تھے جب تک اسے عمامہ نہیں باندھ دیتے تھے اور دائیں جانب کان کی طرف شملہ نہیں لٹکا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثقت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے منقول یہ حدیث گزر چکی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے جمعہ والے دن عمامہ والے افراد پر رحمت نازل کرتے ہیں یہ کتاب الجمعہ میں گزری ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8504
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7641)»