حدیث نمبر: 8500
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ جَبَلٍ وَحُذَيْفَةُ وَابْنُ عَوْفٍ وَأَنَا وَأَبُو سَعِيدٍ ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ ابْنَ عَوْفٍ فَتَجَهَّزَ لِسَرِيَّةٍ بَعَثَهُ عَلَيْهَا فَأَصْبَحَ وَقَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَقَضَهَا فَعَمَّمَهُ ، فَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاعْتَمَّ فَإِنَّهُ أَعْرَبُ وَأَحْسَنُ " ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " خُذْ يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاغْزُوَا جَمِيعًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَاتِلُوا مِنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا فَهَذَا عَهْدُ اللَّهِ وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ فِيكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں موجود دس افراد میں سے ایک تھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے ، میں تھا ، اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے اسی دوران انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے سلام کیا اور پھر وہ بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک جنگی مہم کے لئے سامان تیار کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس مہم کا امیر مقرر کیا تھا ، اگلے دن انہوں نے سیاہ رنگ کا اونی عمامہ باندھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم نے ان کا عمامہ کھول کر خود اُن کا عمامہ باندھا اور پیچھے چار انگل ، یا اس کے آس پاس شملہ رکھا ، پھر یہ ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! اس طرح تم عمامہ باندھو ! یہ عربوں کے معمول کے مطابق اور زیادہ عمدہ ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے جھنڈا اُن کے سپرد کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! اسے لے لو ! اور سب لوگوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جنگ کرو ، اس شخص کے ساتھ قتال کرو ، جو اللہ کا انکار کرتا ہے ، تم عہد شکنی نہ کرنا ، تم مثلہ نہ کرنا ، یہ اللہ کا حکم اور تم لوگوں کے بارے میں اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔