مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ صَبَرَ عَلَى اللَّمَمِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو مرگی پر صبر کرتا ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ يَشْفِيَنِي قَالَ : " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكَ ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ ؟ " قَالَتْ : بَلْ أَصْبِرُ وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے شفاء عطا کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہو ! تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر دیتا ہوں کہ وہ تمہیں شفاء عطا کر دے اور اگر تم چاہو ، تو اس پر صبر سے کام لو ، تمہیں حساب نہیں دینا ہو گا ، اس نے کہا: میں صبر سے کام لیتی ہوں ، تاکہ مجھے حساب نہ دینا پڑے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ویسے اُس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔