مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى لِلْعَيْنِ وَالْمَرَضِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نظر لگنے ، بیماری ، یا س کے علاوہ کسی چیز کے لئے دم کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ، وَخَرَجَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، فَلَمَّا كَانَا بِالْحَرَّةِ نَهَشَتْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ حَيَّةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْعُوَا لِي عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ " فَدُعِيَ فَعَرَضَ رُقْيَتَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَا ارْقِهِ " فَوَضَعَ ابْنُ حَزْمٍ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ يَمُوتُ أَوْ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْقِهِ وَإِنْ كَانَ قَدْ يَمُوتُ - أَوْ قَدْ مَاتَ - " فَرَقَاهُ ، فَصَحَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُكَيْثٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مَا بَيْنَ ثِقَةٍ وَمَسْتُورٍ . ¤سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ بھی تھے ، جب یہ دونوں حضرات پتھریلی زمین پر پہنچے تو عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ کو ایک سانپ نے ڈس لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو بن حزم کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! انہوں نے اپنے دم کے کلمات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، تم اس کو دم کرو ! تو ابن حزم نے اپنا ہاتھ اُن پر رکھا اور بولے : یا رسول اللہ ! یہ مرنے والا ہے ، یا یہ مر چکا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے دم کرو ! اگرچہ یہ مر چکا ہے ، یا اگرچہ یہ مرنے والا ہے ۔ انہوں نے ان صاحب کو دم کیا ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ٹھیک ہو گئے ، اور روانہ ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبداللہ بن مکیث ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہونے اور مستور ہونے کے درمیان کے ہیں ۔