حدیث نمبر: 8462
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ : " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ ، وَابْنُ رَوْحٍ فَإِنْ كَانَ هُوَ أَحْمَدَ بْنَ هَارُونَ الْبَلَدِيَّ أَوْ أَحْمَدَ بْنَ هَارُونَ الْمِصِّيصِيَّ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُمَا فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ خَلَا مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَإِنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے : ” میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے ، جسے اُس نے پیدا کیا ہے ، بنایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ہارون ہے ، اور ایک راوی ابن نوح ہے اگر تو یہ راوی أحمد بن ہارون بلدی ہے یا أحمد بن ہارون مصیصی ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور اگر یہ اُن دونوں کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، صرف محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8462
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف