حدیث نمبر: 8446
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُقْيَةٌ مِنَ الْحُمَةِ ، فَقَالَ : " اعْرِضُوهَا عَلَيَّ " ، فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ : بِسْمِ اللَّهِ قَرْنِيَّةٌ شَجَّةٌ مِلْحَةُ بَحْرٍ قِفْطًا ، فَقَالَ : " هَذِهِ مَوَاثِيقُ أَخَذَهَا سُلَيْمَانُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْهَوَامِّ ، لَا أَرَى بِهَا بَأْسًا " قَالَ : فَلُدِغَ رَجُلٌ وَهُوَ مَعَ عَلْقَمَةَ ، فَرَقَاهُ بِهَا ، فَكَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈنک کے ایک دم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اس کے کلمات میرے سامنے پیش کرو لوگوں نے اس کے کلمات آپ کے سامنے پیش کیے ، جو یہ تھے : «بِسْمِ اللَّهِ قَرْنِيَّةٌ شَجَةٌ مِلْحَةُ بَحْرٍ قِفْطا» تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ پیمان ہے ، جو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے زہریلے جانوروں سے لیا تھا ، میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ۔
راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص علقمہ کے ساتھ تھا ، اسے کسی نے ڈنک مار لیا ، تو انہوں نے ان کلمات کے ذریعے اسے دم کیا ، تو وہ شخص یوں ٹھیک ہو گیا ، جیسے رسیوں سے آزاد کر دیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8446
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10050)»