حدیث نمبر: 8444
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كُنْتُ أَرَقِي مِنْ حُمَةِ الْعَيْنِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا أَسْلَمْتُ ذَكَرْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اعْرِضْهَا عَلَيَّ " ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " ارْقِ بِهَا فَلَا بَأْسَ بِهَا " . وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا رَقِيتُ بِهَا إِنْسَانًا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں زمانہ جاہلیت میں نظر لگنے کا دم کیا کرتا تھا ، جب میں نے اسلام قبول کیا ، تو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، آپ نے فرمایا : اس کے کلمات میرے سامنے پیش کرو ! میں نے وہ پیش کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے ذریعے دم کرو ! ان میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر یہ نہ ہوتا ، تو میں نے کبھی کسی انسان کو دم نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (830)»