حدیث نمبر: 8437
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : " مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً ، أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ ؟ " قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ ، أَفَنَرْقِيهِمْ ؟ قَالَ : " وَبِمَاذَا ؟ " فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ : " ارْقِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا وجہ ہے ، میرے بھتیجوں کے جسم کمزور ہو گئے ہیں کیا انہیں بھوک لاحق ہوئی ہے ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی نہیں ! انہیں نظر جلدی لگ جاتی ہے ، کیا ہم انہیں دم کر دیا کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کن کلمات کے ذریعے ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے وہ ( کلمات ) آپ کے سامنے بیان کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انہیں دم کر دیا کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (333/3)»