حدیث نمبر: 8436
وَعَنْ جَبَلَّةَ بْنِ الْأَزْرَقِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِأَصْحَابِهِ إِلَى جَنْبِ جِدَارٍ كَثِيرِ الْأَحْجِرَةِ صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، خَرَجَتْ عَقْرَبٌ فَلَدَغَتْهُ ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، فَرَّقَاهُ النَّاسُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " اللَّهُ شَفَانِي وَلَيْسَ بِرُقْيَتِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ كَاتِبِ اللَّيْثِ ، وَكِلَاهُمَا قَدْ ضُعِّفَ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جبلہ بن ازرق رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ایک ایسی دیوار کے پہلو میں نماز پڑھائی ، جس پر پتھر بہت زیادہ تھے ، آپ نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تھی ، جب آپ دو رکعت کے بعد بیٹھ گئے ، تو ایک بچھو نکلا ، جس نے آپ ڈنک مارا ، آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، لوگوں نے آپ کو دم کیا ، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء دی ہے ، تمہارے دم نے شفاء نہیں دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے عبداللہ بن صالح سے نقل کی ہے ۔ جو عبداللہ کاتب ہے ، اور ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور ان کی توثیق بھی کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2196)»