حدیث نمبر: 8413
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ وَلَا بُدَّ " - وَكَانَ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَلَا بُدَّ " أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ كَذَا - " فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ لَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ ، وَلَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَدْ قِيلَ فِيهِ : صَدُوقٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شنگون لینے کا ذکر کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اس میں سے کوئی چیز لاحق ہو جائے ، اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو “ یہ ہمارے نزدیک ان چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : ) ” اے اللہ ! شگون صرف وہ ہے ، جو تیرا عطا کردہ ہو ، اور بھلائی صرف وہ ہے ، جو تیری ( عطا کردہ ) بھلائی ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، اور وہ متروک ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : وہ صدوق ہے ، اور منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8413
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3048)»