کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی فال لے ، تو کیا کہے ؟
حدیث نمبر: 8412
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " يَقُولُ أَحَدُهُمْ : اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو فال ( یا بد شگونی ) کسی کام سے روک دے ، تو اس نے شرک کا ارتکاب کیا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی یہ پڑھے : ” اے اللہ ! بھلائی صرف وہ ہے ، جو تیری عطا کردہ بھلائی ہے ، اور شگون صرف وہ ہے ، جو تیرا عطا کردہ ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7045)»
حدیث نمبر: 8413
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ وَلَا بُدَّ " - وَكَانَ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَلَا بُدَّ " أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ كَذَا - " فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ لَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ ، وَلَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَدْ قِيلَ فِيهِ : صَدُوقٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شنگون لینے کا ذکر کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اس میں سے کوئی چیز لاحق ہو جائے ، اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو “ یہ ہمارے نزدیک ان چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : ) ” اے اللہ ! شگون صرف وہ ہے ، جو تیرا عطا کردہ ہو ، اور بھلائی صرف وہ ہے ، جو تیری ( عطا کردہ ) بھلائی ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، اور وہ متروک ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : وہ صدوق ہے ، اور منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8413
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3048)»
حدیث نمبر: 8414
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا طَائِرَ إِلَّا طَائِرُكَ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شگون ، صرف تیرا ہے “ ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ابوسلمہ ہے ، جسے ابن حبان نے اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3049)»