حدیث نمبر: 8410
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : اشْتَكَى قَوْمٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ سَكَنُوا دَارًا وَهُمْ عَدَدٌ فَقَلُّوا ، فَقَالَ : ¤ " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهَا وَهِيَ ذَمِيمَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حَمِيدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن حارثہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ وہ ایک ایسے گھر میں رہتے ہیں کہ جہاں اُن کی تعداد پہلے زیادہ تھی اور پھر وہ لوگ کم ہو گئے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں نے اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ وہ برا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8410
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5639)»