مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالطِّيَرَةِ مِنْ ذَلِكَ وَنَحْوِهُ باب: گھر ، عورت ، گھوڑے اور شگون وغیرہ کے بارے میں ، جو کچھ نقل کیا گیا ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنْ قَوْمًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا دَخَلْنَا هَذِهِ الدَّارَ وَنَحْنُ ذَوُوا وَفْرٍ فَافْتَقَرْنَا ، وَكَثِيرٌ عَدَدُنَا فَقَلَّ عَدَدُنَا ، وَحُسْنُ ذَاتِ بَيْنِنَا فَسَاءَ ذَاتُ بَيْنِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهَا وَهِيَ ذَمِيمَةٌ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَدَعُهَا ؟ قَالَ : " بِيعُوهَا أَوْ هَبُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : أَخْطَأَ فِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ مُرْسِلَاتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قُلْتُ : وَصَالِحٌ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَفِيهِ أَيْضًا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَنَقَلَ تَضْعِيفَ ابْنِ الْمَدِينِيِّ لَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم جب اس گھر میں منتقل ہوئے تھے ، تو ہم خوشحال تھے ، پھر ہم غریب ہو گئے ، پہلے ہماری تعداد زیادہ تھی ، پھر ہماری تعداد کم ہو گئی ، پہلے ہمارے درمیان حسن سلوک تھا ، پھر ہمارے درمیان اختلافات آ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُسے چھوڑ دو ! کیونکہ وہ برا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کیسے اسے چھوڑ دیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے فروخت کرو یا اسے ہبہ کر دو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : اس میں صالح ابواخضر نے غلطی ہے ، درست یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن شداد کی نقل کردہ ” مرسل “ روایات میں سے ایک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صالح نامی راوی ضعیف ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سفیان ہے ، جسے علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات بھی نقل کی کہ علی بن مدینی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔