مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالطِّيَرَةِ مِنْ ذَلِكَ وَنَحْوِهُ باب: گھر ، عورت ، گھوڑے اور شگون وغیرہ کے بارے میں ، جو کچھ نقل کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 8405
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَتْ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : ¤ " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ : الطِّيَرَةُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " . ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةَ : مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ کہا: کرتے تھے : بدشگونی ( یا نحوست ) گھر میں ، یا عورت میں ، یا گھوڑے میں ہوتی ہے “ ۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت تلاوت کی : ” زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں ، جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ تحریر ( یعنی تقدیر کے فیصلے ) کے مطابق ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔