مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ يُعَلِّقُ تَمِيمَةً أَوْ نَحْوَهَا باب: اس شخص کا بیان ، جو تعویذ وغیرہ لٹکا دیتا ہے
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكَتْ هَذَا ؟ قَالَ : " إِنْ عَلَيْهِ تَمِيمَةً " فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا ، فَبَايَعَهُ وَقَالَ : " مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ افراد حاضر ہوئے آپ نے نو افراد سے بیعت لے لی اور ایک سے نہیں لی ، آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ نے نو افراد سے بیعت لے لی ہے ، اور اسے چھوڑ دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے پاس تعویذ موجود ہے اس شخص نے اپنا ہاتھ اندر داخل کیا اور اسے کاٹ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی اور ارشاد فرمایا : ” جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے ، وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔