حدیث نمبر: 839
وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ ، فَقَالَ : " مَا أَرَى هَذَا يُغْنِي شَيْئًا " ، فَتَرَكُوهَا ذَلِكَ الْعَامَ فَشَيَّصَتْ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِمَا يُصْلِحُكُمْ فِي دُنْيَاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو کھجوروں کی پیوندکاری کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میرے خیال میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس سال لوگوں نے اس عمل کو ترک کر دیا ، تو ان کی پیداوار کم ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو چیز تمہارے دنیاوی امور کے بارے میں زیادہ موزوں ہو ، اس کے بارے میں تم بہتر جانتے ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس مضمون کی روایت نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 1030 اورده المؤلف فى كشف الاستار 202»