حدیث نمبر: 8386
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ ، وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قَيْدُ رُمْحٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جذام زدہ شخص کی طرف مسلسل نہ دیکھو ! جب تم ان کے ساتھ بات چیت کرو ، تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے جتنا فاصلہ ہونا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابويعليٰ فى المسند (6774) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2897)»