مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ دَوَاءِ الْخَنَازِيرِ باب: خنازیر ( گردن کے پھوڑے ) کی دواء
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَجُلًا رَأَى رَجُلًا بِهِ خَنَازِيرُ فَقَالَ : لَوْلَا أَنَّهُ أَخَذَ عَلَيَّ لَحَدَّثْتُكَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَقِيَهُ فَقَالَ : حَدِّثْ ، فَقَالَ : إِنَّهُ أَخَذَ عَلَيَّ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ أَحَدًا ، قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْكَ ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَحَدِّثْ بِهِ ، قَالَ : اعْمَدْ إِلَى أَبْوَالِ إِبِلِ الْأَرَاكِ - يَعْنِي تَأْكُلُ الْأَرَاكَ - فَاطْبُخْهُ حَتَّى يَنْعَقِدَ ثُمَّ اشْرَبْهُ ، وَخُذْ وَرَقَ الْأَرَاكِ فَدُقَّهُ وَذَرِّهِ عَلَيْهِ . فَفَعَلَ فَبَرِأَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دوسرے کو دیکھا جسے خنازیر ( گردن کے پھوڑے ) کی شکایت تھی اس نے کہا: اگر انہوں نے مجھ سے عہد نہ لیا ہوتا ، تو میں نے تمہیں حدیث بیان کرنی تھی اس بات کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ملی ، تو وہ اس شخص سے ملے اور کہا: تم حدیث بیان کرو اس نے کہا: انہوں نے مجھ سے یہ عہد لیا ہے کہ میں یہ حدیث کسی کو بیان نہیں کروں گا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا ان کے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ تم سے عہد لیتے تم اپنی قسم کا کفارہ دیدینا تم یہ حدیث بیان کرو اس نے کہا: پیلو کھانے والے اونٹوں کا پیشاب لیں اور اسے پکائیں یہاں تک کہ جب وہ گاڑھا ہو جائے ، تو اسے پی لیں پھر آپ پیلو کے پتے لیں انہیں پیس لیں اور اس پر چھڑک دیں اس شخص نے ایسا کیا ، تو وہ تندرست ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔