حدیث نمبر: 8377
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَدِمَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ الْمَدِينَةَ ، وَقَدْ أُصِيبَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فِي جَسَدِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِقَرَابَتِهِ : " اطْلُبُوا مَنْ يُعَالِجُهُ " . فَجِيءَ بِالرَّجُلَيْنِ الْأَخَوَيْنِ ، فَقَالَ لَهُمَا : " بِحَدِيدَةٍ تُعَالِجَانِ ؟ " فَقَالَا : إِنَّا كُنَّا نُعَالِجُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَالِجَاهُ " فَبَطَّهُ حَتَّى بَرِأَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو بھائی مدینہ منورہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو اس کے جسم میں تیر لگا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رشتہ داروں سے فرمایا اس کے لئے ایسا شخص تلاش کرو جو اس کا علاج کرے پھر ان دو بھائیوں کو لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم دونوں لوہے کے ذریعے علاج کرو انہوں نے کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں علاج کیا کرتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس کا علاج کرو راوی کہتے ہیں : تو اس نے اس کو چیر دیا ، یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر عمری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ یہ کہتے ہیں : کہ یہ غلطی کرتا ہے ، اور یہ دوسروں کے ( برخلاف ) نقل کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3029)»