حدیث نمبر: 8372
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : ¤ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَبِهِ وَجَعٌ يُقَالُ لَهُ : الشَّوْكَةُ ، فَكَوَاهُ عَلَى عُنُقِهِ فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِئْسَ الْمَيِّتُ لِلْيَهُودِ يَقُولُونَ : قَدْ دَاوَاهُ صَاحِبُهُ فَمَا نَفَعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، جنہیں ایک تکلیف لاحق ہوئی جسے ” شوکہ “ کہا: جاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن پر داغ لگوایا تو ان کا انتقال ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودیوں کے لئے بری میت ہے جو یہ کہتے ہیں : اس کے آقا نے اسے دواء دی اور اس نے اس کو فائدہ نہیں دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5584)»