حدیث نمبر: 837
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطُوفُ فِي النَّخْلِ بِالْمَدِينَةِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : فِيهَا وَسْقٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ فَهُوَ حَقٌّ ، وَمَا قُلْتُ فِيهِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُصِيبُ وَأُخْطِئُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبِهَانِيَّ شَيْخَ الْبَزَّارِ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں کھجور کے ایک باغ کا چکر لگا رہے تھے ، لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا ، اس کی پیداوار ایک وسق ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی پیداوار اتنی اتنی ہو گی ، تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری مانند ایک بشر ہوں ، جو چیز میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بیان کروں ، وہ حق ہو گی ، اور جس کے بارے میں ، اپنی طرف سے بیان کروں ، تو میں ایک انسان ہوں ، میں ٹھیک رائے بھی دے سکتا ہوں اور غلطی بھی کر سکتا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، صرف امام بزار کے استاد اسماعیل بن عبداللہ اصبہانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 201»