مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَيِّ باب: داغ لگوانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَخْبَرَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ، أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ ، فَقَالَ : ¤ " بِئْسَ الْمَيِّتُ لِلْيَهُودِ - مَرَّتَيْنِ - يَقُولُونَ : لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ ، وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ، وَلَأَتَمَحَلَنَّ لَهُ " . فَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ فَمَاتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ مَرَّةً : صُوَيْلِحٍ وَقَدْ وَافَقَ النَّاسَ فِي تَضْعِيفِهِ . ¤سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جو بیعت عقبہ کے نقباء میں سے ایک تھے ، انہیں کانٹا لگ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : بری میت یہودیوں کی ہوتی ہے ، یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ، وہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ ان صاحب نے اپنے ساتھی کی بیماری ختم کیوں نہیں کروائی ؟ حالانکہ میں اس کے لئے ( ذاتی طور پر ) کسی نقصان ، یا نفع کا مالک نہیں ہوں ، لیکن میں اس کے لیے کوئی حیلہ ( یعنی طریقہ علاج ) ضرور اختیار کروں گا ، پھر آپ نے اُن کے سر پر ، دو لکیروں میں داغ لگوائے ، تو ان صاحب کا انتقال ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ایک مرتبہ یحیی بن معین نے یہ کہا: ہے : یہ کم درجہ کا صالح ہے ، اور اس کی تضعیف میں انہوں نے لوگوں کی موافقت کی ہے ۔