مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَيِّ باب: داغ لگوانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8361
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : ¤ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْكَيِّ ، وَكَانَ يَكْرَهُ شُرْبَ الْحَمِيمِ ، وَكَانَ إِذَا اكْتَحَلَ اكْتَحَلَ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ وِتْرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ لگوانے سے منع فرمایا ہے ، اور آپ نے گرم پانی پینے سے منع فرمایا ہے ، جب آپ سرمہ لگاتے تھے ، تو طاق تعداد میں لگاتے تھے اور جب ( استنجاء کرنے کے بعد ) ڈھیلے استعمال کرتے تھے ، تو طاق تعداد میں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔