حدیث نمبر: 8350
عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ ، فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا عَلَى بَثْرٍ بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ مُصَغِّرَ الْكَبِيرِ وَمُكَبِّرَ الصَّغِيرِ أَطْفِئْهَا عَنِّي " فَطُفِئَتْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَرْيَمُ بِنْتُ أَبِي إِيَاسٍ ، تَفَرَّدَ عَنْهَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ وَمَنْ قَبْلَهُ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس ” ذریرہ “ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منگوایا اور اسے اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان موجود پھنسی پر لگا دیا ، پھر آپ نے یہ فرمایا : ” اے اللہ ! بڑے کو چھوٹا کرنے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے ، تو اسے بجھا دے ( یعنی ختم کر دے ) “ ۔ تو وہ بجھ گیا ( یعنی ختم ہو گیا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون مریم بنت ابوایاس ہیں ، عمرو بن یحیی ان سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہیں یہ اور اس سے پہلے کے افراد صیح کے رجال میں سے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8350
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (370/5)»