مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ أَوْقَاتِ الْحِجَامَةِ باب: پچھنے لگوانے کے اوقات
حدیث نمبر: 8332
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَحْتَجِمُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنَ الشَّهْرِ ، فَقُلْتُ : هَذَا الْيَوْمَ تَحْتَجِمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَمَنْ وَافَقَ مِنْكُمُ الثُّلَاثَاءَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنَ الشَّهْرِ فَلَا يُجَاوِزْ حَتَّى يَحْتَجِمَ ، فَاحْتَجِمُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ پچھنے لگوا رہے تھے یہ منگل کے دن ، مہینے کی سترہ تاریخ کی بات ہے ، میں نے عرض کی : کیا آپ آج پچھنے لگوا رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم میں سے جس شخص کو مہینے کی سترہ تاریخ منگل کے دن آئے ، اور وہ پچھنے لگوانے سے پہلے اس سے آگے نہ جائے تم لوگ ( اس تاریخ کو ) پچھنے لگوا لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔