حدیث نمبر: 8320
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : حَجَّمَ أَبُو طِيبَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ أَوِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : " هَذَا الْحَجْمُ وَهُوَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوطیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگا رہا تھا ، عیینہ بن حصن یا اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ پچھنے لگوانا ہے ، اور یہ ان سب میں بہتر ہے ، جو چیز تم دواء کے طور پر استعمال کرتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر بن حفص عمری ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8320
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف