حدیث نمبر: 8319
وَعَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبَجَلِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَقَالَ : يَا أَبَا حَكِيمٍ أَتَحْتَجِمُ ؟ فَقُلْتُ : مَا احْتَجَمْتُ قَطُّ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنْبَأَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْحِجَامَةَ أَنْفَعُ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ ، خَلَا ذِكْرَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ النَّخَعِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوالحکم بجلی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ پچھنے لگوا رہے تھے ، انہوں نے کہا: اے ابوالحکیم ! کیا تم پچھنے لگواؤ گے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کبھی پچھنے نہیں لگوائے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” سیدنا جبرائیل نے آپ کو یہ بتایا تھا کہ پچھنے لگوانا ، ان تمام چیزوں سے زیادہ فائدہ مند ہے ، جو لوگ ( مختلف طرح کے ) علاج کرتے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے اس میں سیدنا جبرائیل کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قیس نخعی ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8319
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف