مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ التَّدَاوِي بِالْعَسَلِ وَالْحِجَامَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: شہد ، پچھنے لگوانے اور دیگر چیزوں کو ، دواء کے طور پر استعمال کرنا
حدیث نمبر: 8313
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَدِيجٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ تُصِيبُ أَلَمًا ، وَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا سُوِيدَ بْنَ قَيْسٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی چیز میں شفاء ہے ، تو پچھنے لگوانے میں ہے ، یا شہد پینے میں ہے ، یا آگ کے ذریعے داغ لگوانے میں ہے ، جو تکلیف والی جگہ پر لگایا جائے ، اور میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں داغ لگواؤں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سوید بن قیس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔