مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ التَّدَاوِي بِالْعَسَلِ وَالْحِجَامَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: شہد ، پچھنے لگوانے اور دیگر چیزوں کو ، دواء کے طور پر استعمال کرنا
حدیث نمبر: 8312
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا ، وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ ، لَا أُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی چیز میں شفاء موجود ہے ، تو پچھنے لگانے کے آلات میں ، یا شہد پینے میں یا تکلیف والی جگہ پر داغ لگوانے میں ہے ، اور میں داغ لگوانے کو مکروہ سمجھتا ہوں ، میں اسے پسند نہیں کرتا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ولید بن قیس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔