حدیث نمبر: 8309
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَالِي أَرَاكَ مُرْتَثَّةً ؟ " . فَقُلْتُ : شَرِبْتُ دَوَاءً أَسْتَمْشِيَ بِهِ قَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " قُلْتُ : الشُّبْرُمُ ، قَالَ : " وَمَا لَكِ وَلِلشُّبْرُمِ ؟ فَإِنَّهُ حَارٌّ بَارٌّ ، عَلَيْكَ بِالسَّنَا وَالسَّنُّوتِ ، فَإِنَّ فِيهِمَا دَوَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا السَّامَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَبَقِيَّتُهُ فِي الزِّينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ رُكَيْحُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں کمزور دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : میں نے اسہال کی دوا پی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیا تھی ؟ میں نے عرض کی : وہ شبرم ( نامی بوٹی ) تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا شبرم کے ساتھ کیا واسطہ ؟ وہ انتہائی گرم ہوتی ہے ، تم پر سنا مکی اور سنوت استعمال کرنا لازم ہے ، کیونکہ ان دونوں میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی دواء موجود ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے اس روایت کا بقیہ حصہ زینت سے متعلق باب میں آئے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے رکیح بن ابوعبیدہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کی والدہ سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان لوگوں سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8309
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (398/23)»